کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 148
گویا جس طرح روزہ افطار کرنے کے لیے غروبِ شمس کا تیقُّن ضروری ہے چاہے دن کچھ لمبا یا کچھ چھوٹا ہوجائے اسی طرح ایک مسلمان جس ملک میں بھی جائے گا، وہاں کی رؤیت کے مطابق ہی اسے عید الفطر کرنی ہوگی، یعنی روزہ رکھنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر وہاں کی رؤیت پر اس کے روزے پورے 29 یا 30 ہوجاتے ہیں تو فبھا اور اگر 31ہوجاتے ہیں تو ایک روزہ نفلی ہوجائے گا لیکن وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ اس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہوگا اور 28 ہوں گے تو ایک روزہ عید الفطر کے بعد رکھنا ہوگا کیونکہ حکم ہے: ’اَلصَّوْمُ یَوْمَ تَصُومُونَ، وَ الْفِِطْرُ یَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَالْأَضْحٰی یَوْمَ تُضَحُّونَ‘ ’’روزے کا وہ دن ہے جس دن تم روزہ رکھو اور روزہ افطار (عید) کرنے کا وہ دن ہے جس دن تم افطار (عید) کرو اور عید الاضحی کا وہ دن ہے جس دن تم قربانیاں کرو۔‘‘[1] اس حدیث میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور مسلمانوں سے مراد اپنے اپنے علاقے (یا ایک متحد المطالع ملک) کے مسلمان ہیں، اس میں ایک علاقے کی حد تک مسلمانوں کو اجتماعیت کی تاکید ہے جس سے مسئلۂ زیر بحث کی تائید ہوتی ہے۔ کچھ رؤیتِ ہلال کمیٹی اوراس کی پیش کردہ تجاویز کے بارے میں اب آخر میں ہم دو امور پر مزید گفتگو کرنا مناسب سمجھتے ہیں: (1) وقتاً فوقتاً مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلوں اور طریق کار پر تنقید ہوتی رہتی [1] جامع الترمذي، الصوم، باب ما جاء أن الصوم یوم تصومون…، حدیث: 697۔