کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 146
شوال کا آغاز کرنا جائز ہے جہاں شریعت کے مطابق رؤیت بصری پر فیصلہ کیا جاتا ہے، جیسے سعودی عرب، پاکستان وغیرہ ہیں، گویا محض فلکیات پر اعتبار کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح شرعی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے جو کسی مسلمان کے شایاں نہیں ہے۔ ہمیشہ 30 روزے رکھنا بھی جائز نہیں علاوہ ازیں ایسے علاقوں کے لوگوں کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ یہ سوچ کر کہ ہمیں چاند تو نظر ہی نہیں آتا، ہمیشہ 30 روزے رکھتے رہیں اور کسی بھی ملک کی رؤیت بصری پر اعتماد نہ کریں کیونکہ اس طرح بھی قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اس لیے کہ مہینہ اللہ ہی کے حکم سے کبھی 29 دن کا اور کبھی 30 دن کا ہوتا ہے اور وہ دنوں کی اس کمی بیشی کو اپنے طور پرختم کردیں تو یہ یقینا حدودِ الٰہی سے تجاوز ہوگا۔ (وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّٰهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿٢٢٩﴾)[1] ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرنے سے روزے 30/29 کے بجائے کم یا زیادہ ہوجائیں؟ مذکورہ تفصیل سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے جو بعض ایسے لوگ پوچھتے ہیں جن کو رمضان المبارک میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں آنے جانے کا اتفاق ہوتا ہے، ان کو یہ مشکل پیش آتی ہے کہ بعض دفعہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں رمضان کے آغاز یا اختتام پر آتے یا جاتے ہیں تو ان کے روزے 28 رہ جاتے ہیں یا [1] البقرۃ 229:2۔