کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 138
راقم کو امید ہے کہ ایک دو مرتبہ اس طرح کرنے سے آئندہ کے لیے ایک واضح صورت متعین ہو جائے گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اہل خیبر کے معاملے کو خیبر کے علماء ہی کے سپرد کر دیا جائے، وہ جس طرح چاہیں فیصلہ کریں اور اس پر عمل کریں جیسا کہ سالہاسال سے ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے اور اہل خیبر اکثر اپنے صوبے کی رؤیت اور اپنے لوگوں کی شہادتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ملک کے دوسرے حصوں سے الگ ہی رمضان اور عید کا اہتمام کرتے ہیں، ایسا کرنے کی بھی شرعاً پوری گنجائش ہے۔ اثباتِ ہلال کے لیے کیلنڈر پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا مذکورہ وضاحت سے اس امر پر بھی روشنی پڑجاتی ہے کہ کیلنڈر پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ بعض لوگ وحدت ویکجہتی کے نقطۂ نظر سے پورے عالم اسلام کے لیے ایک اسلامی کیلنڈر کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ یہ تجویز نیک نیتی پر مبنی ہوسکتی ہے لیکن یہ نصوصِ شریعت سے متصادم ہے کیونکہ اولًا روزہ یا عید الفطر اور عید الاضحی کا اہتمام ایک عبادت ہے۔ یہ دوسری قوموں کی طرح کے صرف ایک تہوار نہیں ہیں بلکہ اصلًا یہ عبادات ہیں تاہم ان میں اجتماعیت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اجتماعیت اسی حد تک ممکن ہوگی جس حد تک نصوصِ شریعت اجازت دیں گی، جیسے ایک علاقے کے لوگ ایک ہی وقت میں روزے کا آغاز یا اختتام کریں، عیدین کی نماز کھلے گراؤنڈ میں ادا کریں، وغیرہ۔ لیکن اس اجتماعیت کو اس حد تک نہیں بڑھا یا جاسکتا کہ پورے عالم اسلام کو یا کسی وسیع ایک ملک کو کسی ایک علاقے کی رؤیت کا پابند کردیا جائے یا ایک حسابی کیلنڈر بنادیا جائے جس میں فلکیات کے اعتبار سے رمضان، شوال اور ذوالحجہ اور