کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 131
پھر اس موضوع پر مفصل بحث کرنے کے بعد علامہ لکھنوی نے جو جچاتلا فیصلہ کیا ہے، وہ انھی کے الفاظ میں نقل کیا جاتا ہے: ’’اصح المذاہب عقلا و نقلا ہمیں است کہ ہر دو بلدہ کہ فیما بین آنہا مسافتے باشد کہ دراں اختلافِ مطالع می شودو تقدیرش مسافت یک ماہ است، دریں صورت حکم رؤیت یک بلدہ بہ بلدۂ دیگر نخواہد شدو دربلادِ متقارِبہ کہ مسافت کم از کم یک ماہ داشتہ باشند حکم رؤیت بلدہ بہ بلدۂ دیگر لازم خواہد شد۔‘‘[1] ’’عقل و نقل ہر دو لحاظ سے سب سے صحیح مسلک یہی ہے کہ ایسے دو شہر جن میں اتنا فاصلہ ہو کہ ان کے مطلع بدل جائیں جس کا اندازہ ایک ماہ کی مسافت سے کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے معتبر نہیں ہونی چاہیے اور قریبی شہروں میں جن کے مابین ایک ماہ سے کم کی مسافت ہو ایک شہر میں رؤیت دوسرے شہر کے لیے لازم اور ضروری ہوگی۔‘‘ راقم الحروف کے خیال میں یہ رائے بہت معتدل،متوازن اور قرین عقل ہے، البتہ اختلافِ مطالع کی حدیں متعین کرنے میں ’’ایک ماہ کی مسافت‘‘ کی قید کی بجائے جدید ماہرین فلکیات کے حساب اور ان کی رائے پر اعتماد کیا جانا زیادہ مناسب ہوگا۔ مجلس تحقیقاتِ شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنؤ، منعقدہ 4,3 مئی 1967ء کو مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور نمائندہ شخصیتوں نے مل کر اس مسئلہ کی بابت جو فیصلہ کیا تھا، وہ حسب ذیل ہے: 1 نفس الامر میں پوری دنیا کا مطلع ایک نہیں بلکہ اختلافِ مطالع مسلّم ہے۔ یہ ایک واقعاتی چیز ہے اس میں فقہائے کرام کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور حدیث سے بھی اس [1] مجموعۃ الفتاوٰی علٰی ہامش خلاصۃ الفتاوی، جلد 1، ص: 256,255۔