کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 125
فرق ہے، اسے کیوں کر ناقابل اعتبار قرار دیاجاسکتا ہے؟ اس کے لیے جب تک کوئی معقول شرعی دلیل نہیں ہوگی، اسے تسلیم کرنا مشکل ہے۔ مذکورہ تفصیل سے مسئلے کی نوعیت بھی واضح ہوگئی اور وہ یہ کہ ہراسلامی مہینے کے لیے چاند کا دیکھا جانا ضروری ہے، اس کے بغیر مہینے کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرا، یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس خواہش کی کوئی شرعی حیثیت یا بنیاد نہیں ہے کہ تمام عالمِ اسلام یا ایک وسیع اور بلادِ بعیدہ کے حامل ملک میں عیدین اور رمضان کا آغاز ایک ہی دن ہو۔ تیسرا، سعودی عرب کو بھی، جس کو عالم اسلام میں ایک خصوصی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس کے لیے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔ اختلافِ مطالع کا اعتبار ہے یا نہیں؟ مذکورہ تفصیل سے اگرچہ اس امر کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ اختلاف مطالع کا اعتبار ہے، یعنی دور دراز کے علاقوں کی رؤیت ان علاقوں کے لیے کافی نہیں ہے جن کے مطالع میں بہت زیادہ فرق ہے، مثلاً: ایک جگہ ظہر کا وقت ہے تو دوسری جگہ رات کا بھی کچھ حصہ گزر چکا ہے اور یوں چاند کے طلوع ہونے میں بھی اکثر وبیشتر ایک یا دو دن کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ حنفی مذہب میں ظاہر الروایۃ کے مطابق اختلافِ مطالع کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اس لیے پاکستان کے بعض احناف کے نزدیک پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن عید اور رمضان کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور علمائے احناف کا یہ گروہ اسی پر زور دے رہا ہے۔