کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 122
روزہ افطار (روزہ رکھنا ترک اور عید) نہ کرو، جب تک چاند دیکھ نہ لو، اگر بادل چھاجائیں تو پھر (تیس دن کا) اندازہ پورا کرو۔‘‘[1] اس کی تیسری وجہ یہ ہے کہ عیدین اگرچہ مسلمانوں کے ملی تہوار ہیں۔ لیکن یہ دوسرے مذاہب کے سے ملی تہوار نہیں، جن میں وہ لوگ تہوار کی سرمستی میں ہر چیز کو فراموش کردیتے ہیں حتی کہ تمام اخلاقی قدروں اور ضابطوں اور تمام بندھنوں سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ اسلام میں ایسا نہیں ہے۔ اسلام میں عیدین کا آغاز بھی اللہ کی تکبیر و تحمید اور اس کی بارگاہ میں دوگانہ ادا کرکے اس کے سامنے عجزونیاز کے اظہار سے ہوتا ہے اور پھر کسی بھی مرحلے میں اس آزاد روی کی اجازت نہیں ہے جس کا مظاہرہ عیدین کے موقعوں پر دوسرے لوگوں کی دیکھا دیکھی اور نقالی میں، جاہل مسلمانوں اور شریعت سے ناآشنا لوگوں کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ وہ بھی خدا فراموش اور اخلاقی حدود سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ اسلام میں عیدین کی حیثیت ملی تہوار کے علاوہ عبادت کی بھی ہے۔ اور رمضان المبارک تو ہے ہی عبادات کا خصوصی مہینہ، اس لیے ان میں وحدت کا اہتمام غیرضروری ہے۔ جس طرح عالم اسلام میں بلکہ ایک ملک میں بھی نمازوں کے اوقات میں فرق وتفاوت ہے اور اسے وحدت کے منافی نہیں سمجھا جاتا، تو عالم اسلام میں رؤیتِ ہلال کے حساب سے الگ الگ دن عیدین اور رمضان کے آغاز کو، عالم اسلام کی وحدت کے منافی کیوں کر سمجھا جائے؟ اپنے اپنے حساب سے ہر ملک میں الگ الگ عید منائی جاسکتی ہے اور رمضان کے روزے رکھے جاسکتے ہیں۔ شریعت نے ایسا کوئی حکم دیا ہے اور نہ اس کا کوئی اہتمام ہی کیا ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ ایک ہی [1] صحیح مسلم، الصیام، باب وجوبِ صومِ رمضان …، حدیث: 1080۔