کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 120
یہ فیصلہ کرسکتے ہیں جبکہ انھوں نے چاند دیکھا ہی نہ ہو۔ عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک نظیر علاوہ ازیں اس کی ایک دوسری وجہ عہد صحابہ کی ایک نظیرہے جس سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے جو مذکورہ سطور میں پیش کیا گیا ہے… وہ واقعہ حسب ذیل ہے: ’’حضرت کریب رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ مجھے ام الفضل نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا۔ میں وہاں گیا اور اپنا کام پورا کیا اور ملک شام ہی میں میری موجودگی میں وہاں رمضان کا چاند ہوگیا اور یہ جمعہ کی رات تھی۔ پھر جب میں مہینے کے آخر میں مدینہ واپس آیا، تو مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ تم نے وہاں چاند کب دیکھا تھا، میں نے بتلایا کہ جمعے کی رات کو، انھوں نے پوچھا: تم نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے بھی اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا اور اس کے مطابق ہی لوگوں نے ا ور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے روزے رکھے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لیکن ہم نے تو یہاں (مدینے میں) ہفتے کی رات کو چاند دیکھا تھا، چنانچہ ہم تو پورے تیس روزے رکھیں گے یا پھر (29 رمضان کو) ہم چاند دیکھ لیں۔ تو میں نے کہا: کیا آپ کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ انھوں نے فرمایا: نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ہی حکم دیا ہے۔‘‘[1] [1] صحیح مسلم، الصیام، باب بیان أن لکل بلد رؤیتہم و أنہم إذا رأوا الہلال ببلد لا یثبت حکمہ لما بعد عنہم ۔