کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 115
عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٠٤﴾) ’’اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے اور معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘ [1] امر بالمعروف (معروف کا حکم دینا) اس میں ہر خیر اور بھلائی آجاتی ہے جن میں سرفہرست توحید و سنت کی دعوت ہے ۔ نہی عن المنکر (منکر سے روکنا) اس میں ہر منکر (برا عمل) آجاتا ہے لیکن ان میں سب سے اہم شرک و بدعت سے روکنا ہے۔ جب یہ دونوں اہم فریضے امت ادا کرے گی تو وہ خیر الامم قرار پائے گی۔ ارشاد الٰہی ہے: (كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ ۗ) ’’ تم سب سے بہتر امت ہو جس کو لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے، تم معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ [2] امام عز بن عبدالسلام کا قول ہے: ’طُوبٰی لِمَنْ تَوَلّٰی شَیْئًا مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِینَ فَأَعَانَ عَلٰی إِمَاتَۃِ الْبِدَعِ وَإِحْیَائِ السُّنَنِ‘ ’’ اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جو مسلمانوں کے کچھ معاملات کا ذمہ دار بنا تو اس نے بدعتوں کے مٹانے کی اور سنتوں کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔‘‘[3] جَعَلَنَااللّٰہُ مِنْھُمْ۔ آمدم برسر مطلب گزشتہ تفصیلات سے مقصود یہ ہے کہ بدعت کی حقیقت اور اس کی خطرناکیاں واضح [1] آل عمران: 3/104 [2] آل عمران: 3/110 [3] طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکي: 255/8۔