کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 111
ارشاد فرمایا جب انھوں نے لوگوں کو رمضان کے قیام میں ایک امام کے پیچھے مسجد میں جمع کیا اور باہر نکل کر انھیں اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ (یہ اچھا طریقہ ہے) اور مطلب اس کا یہ ہے کہ یہ کام اس طریقے پر اس سے پہلے نہیں تھا لیکن شریعت میں اس کی اصل موجود ہے جو مرجع استدلال ہے۔‘‘[1] سنت اور بدعت کی پہچان ضروری ہے اہل بدعت کے اور بھی بعض استدلالات ہیں لیکن ان کے بڑے استدلالات وہی ہیں جن کی اصل حقیقت ہم نے اللہ کی توفیق سے گزشتہ صفحات میں بیان کردی ہے ۔ مقصد اس تفصیل سے ان لوگوں کو ، جو دین کی حقیقت سے ناآشنا ہیں، وہ صحیح منہج بتلانا ہے جو صحابۂ کرام کا منہج ہے جس میں ایک طرف صرف سنتوں کی پیروی کا اہتمام ہے اور دوسری طرف بدعت سازی سے مکمل اجتناب اور اہل بدعت سے نفرت و کراہت کا اظہار ہے ۔ شریعتِ اسلامیہ نے جن باتوں کے کرنے کا بطورِ خاص حکم دیا ہے، ان سے تو ہماری زندگیاں عموماً خالی ہیں، نماز سے ہمیں دلچسپی نہیں۔ صداقت و راست بازی ہمارا شعار نہیں۔ امانت و دیانت سے ہمارا دامن خالی، حسنِ اخلاق سے ہم کوسوں دور اور اسی طرح دوسری اچھائیاں اور خوبیاں ہیں جن سے مسلمان کا متصف ہونا ضروری ہے لیکن ان کا کوئی پَرتَوْ ہماری سیرتوں میں نہیں ملتا۔ اس کے برعکس برائیاں ہمارے اندر ساری دنیا کی جمع ہوگئی ہیں۔ اور اس طرح ہماری ہڈیوں میں رچ بس اور رگ و پے [1] جامع العلوم والحکم: 128/2، بہ تحقیق شعیب أرناؤوط، طبع: 1997ء ۔