کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 108
کی پیروی کریں گے اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کا بھی بوجھ ہوگا جو اس گمراہی کی پیروی کریں گے، چاہے وہ ہدایت اور گمراہی ایسی ہو کہ سب سے پہلے (اس جگہ پر) اسی نے اس کا آغاز کیا ہو ، یا وہ ایسی ہو کہ پہلے بھی اس کا ارتکاب کرنے والے موجود ہوں، اس طرح چاہے اس کا تعلق علم سکھانے، عبادت سکھانے یا ادب وغیرہ سکھانے سے ہو۔‘‘[1] (3)’’نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ‘‘ سے استدلال ؟ اہل بدعت، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول سے بھی استدلال کرتے ہیں جو قیامِ لیل باجماعت کے بارے میں انھوں نے فرمایا تھا کہ ’’ یہ بدعت اچھی ہے ۔‘‘ لیکن یہ استدلال بھی باطل ہے، اس لیے کہ رمضان المبارک کا یہ قیام اللیل، جسے بعد میں تراویح کہا جانے لگا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، آپ نے صحابۂ کرام کے ساتھ باجماعت تین راتیں قیام فرمایا ، چوتھی رات کو بھی صحابۂ کرام جمع ہوئے لیکن آپ نے ان کے ساتھ قیام نہیں فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی: ’وَلٰکِنِّي خَشِیتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْہَا‘ ’’اورلیکن مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ (قیامِ رمضان) کہیں تم پر فرض نہ کر دیا جائے اور تم اس کو ادا نہ کرسکو۔‘‘[2] گویا اس خطرے کے پیش نظر آپ نے باجماعت قیام اللیل ترک فرما دیا ۔ [1] شرح النووي، العلم، باب من سن سنۃ …: 227,226/2 مکتبۃ الغزالي، دمشق۔ [2] صحیح البخاري، صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رَمَضان، حدیث: 2012، وصحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب الترغیب فی قیام رمضان…، حدیث: 761۔