کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 102
’’نہیں، رغبت والے (آباد ہونے کی نیت والے) نکاح کے بغیر حلال نہیں ہوگی۔‘‘ نیز فرمایا: ’کُنَّا نَعُدُّ ھٰذَا سَفَاحًا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ‘ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے نکاح کو زنا کاری سمجھتے تھے ۔‘‘[1] مذکورہ دونوں موقف اسی لیے غلط ہیں کہ ان دونوں گروہوں نے صرف نکاح کے لغوی معنی کو سامنے رکھا ہے اور شریعت کی دوسری نصوص کو نظر انداز کردیا ہے۔ اس سے اسی بات کا اثبات ہوتا ہے کہ کسی بھی آیت یا حدیث سے استدلال کرتے وقت دوسری نصوص شریعت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، اس کے بغیر کسی آیت یا حدیث سے استدلال سراسر گمراہی ہے۔ اس مسلمہ طرز استدلال کی روشنی میں مَنْ سَنَّ میں سَنَّ، جو استنان سے ہے، اِخْتَرَعَ اور اِبْتَدَعَ کے معنی میں نہیں ہے کہ جس نے اسلام میں کوئی نیا کام نکالا ، نیا طریقہ ایجاد کیا تو اس نے اچھا کیا، یعنی بدعتِ حسنہ کی ایجاد اچھا فعل ہے جیسا کہ اہل بدعت اس کا یہی مفہوم لے کر بدعت حسنہ کا جواز بیان کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کے معنی ہیں کہ اس نے ایسے عمل میں پہل کی جو شریعت سے ثابت ہے یا کسی ایسی جگہ پر اس عمل کو سرانجام دیا کہ وہاں پہلے لوگوں کو اس کا علم نہیں تھا، اس کے کرنے پر لوگوں کو ترغیب ملی اور انھوں نے بھی اس کو اختیار کرلیا۔ یا کسی جگہ کوئی سنت متروک تھی، کسی ایک شخص کے عمل کرنے پر دوسرے لوگوں نے بھی اس سنت کو اپنا لیا، ان تمام صورتوں میں کسی بھی ثابت شدہ نیک عمل کا آغاز کرنے والے، سنت متروکہ [1] المستدرک للحاکم: 199/2۔اس کی سند صحیح ہے، دیکھیے: إرواء الغلیل: 311/6۔