کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 101
دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ [1] ایک دوسری حدیث میں حلالہ کرنے والے شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’اَلتَّیْسُ الْمُسْتَعَارُ‘ ’’کرائے کا سانڈ ‘‘ قرار دیا ہے۔[2] ان احادیث کی رو سے حلالے والا نکاح، نکاح نہیں، متعے کی طرح بدکاری ہے، اسی لیے اس کو لعنتی فعل قرار دیا گیا ہے ۔ اگر یہ واقعی نکاح ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مرتکبین پر لعنت نہ فرماتے، یہی وجہ ہے کہ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے حلالے کی نیت سے کسی عورت سے نکاح کیا لیکن پھر اس کی نیت بدل گئی اور وہ چاہتا ہے کہ اس کو طلاق دینے کے بجائے اپنے گھر ہی میں آباد رکھے تو اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے بلکہ اگر وہ اس کو رکھنا چاہتا ہے تو نیا نکاح کرے اور پھر اس کو رکھے۔[3] اس کا صاف مطلب ہے کہ بغرض حلالہ نکاح ، نکاح نہیں سَفَاح (بدکاری) ہے، چنانچہ حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حلالے کا مشروط نکاح زنا کاری ہے۔ حضرت نافع بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اورپوچھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں (الگ الگ) دے دیتا ہے، پھر ایک شخص اس عورت سے اس غرض سے نکاح کرلیتا ہے تاکہ وہ اس کو اپنے بھائی کے لیے حلال کردے۔ ’ھَلْ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟‘ ’’کیا اس طریقے سے وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی؟‘‘ انھوں نے فرمایا: ’لَا، إِلَّا نِکَاحَ رَغْبَۃٍ‘ [1] جامع الترمذي، النکاح، باب ماجاء في المحل والمحلل لہ، حدیث : 1120۔ [2] سنن ابن ماجہ ، النکاح، باب المحلل …، حدیث : 1936۔ [3] جامع الترمذي، النکاح، باب ماجاء في المحل والمحلل لہ ، حدیث : 1120۔