کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 100
جب تک دوسرا خاوند نکاح کے بعد اس عورت سے خلوت صحیحہ اختیار نہیں کرتا اور دونوں ایک دوسرے کا مزہ نہیں چکھ لیتے ، اس وقت تک پہلے خاوند سے اس کا نکاح صحیح نہیں ہو سکتا جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تیسری طلاق بھی دے دی تو ان کی مطلقہ نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور صرف نکاح کے بعد (ہم بستری کے بغیر) دوبارہ پہلے خاوند حضرت رفاعہ کے ساتھ نکاح کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی اور اس عورت سے فرمایا : ’لَا، حَتّٰی تَذُوقِي عُسَیْلَتَہٗ وَیَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ‘ ’’یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تو اس کا مزہ اور وہ تیرا مزہ نہ چکھ لے۔‘‘[1] ایک دوسرے گروہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ مطلقۂ ثلاثہ اگر کسی مرد سے شرط کرکے صرف ایک دو راتوں کے لیے نکاح کرلے اور پھر اس سے طلاق لے کر (عدت گزارنے کے بعد) پہلے خاوند سے نکاح کر لے تو بغرض تحلیل یہ مشروط نکاح جائز ہے۔ یہ وہی حلالہ ہے جس کا فتویٰ علمائے احناف دیتے ہیں ، ان کا استدلال بھی لفظ نکاح کے ظاہری و لغوی معنی سے ہے ، حالانکہ حدیث رسول کی رو سے اسلام میں اس مروجہ حلالے کی کوئی حیثیت نہیں ، اس طرح مشروط نکاح نہیں ہوتا ، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت وعید بیان فرمائی ہے ،چنانچہ حدیث میں ہے: ’لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم اَلْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، [1] صحیح البخاري، الطلاق، باب إذا طلقہا ثلاثاً ثُم تزوجت بعد العدۃ زوجاً غیرہ فلم یمسھا، حدیث: 5317، وصحیح مسلم، النکاح، باب لا تحل المطلقۃ ثلاثا…، حدیث: 1433۔