کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 21
کے متعلق عبادت وغیرہ کاذکر آتا ہے، پاکستان میں جو لوگ توحید کا وعظ کہتے ہیں وہ عقائد کی اصلاح کے سلسلے میں مہینوں مسلسل سفر کرتے ہیں۔ انبیاء اور شہداء کی برزخی زندگی اور اس زندگی میں مراتب کے تفاوت کے قائل ہیں ان لوگوں کا عقیدہ بالکل درست ہے۔
جوشخص قبر میں عذاب یا ثواب کو احادیث نبویہ کی روشنی میں مانتا ہو وہ ان صلحاء کے متعلق عدم محض وفقدان صرف کا قائل کیوں ہوگا، ہاں مراتب کا فرق یقینی ہے انبیاء کا مقام یقیناً شہداء سے اعلی وارفع ہونا چاہیئے۔ بحث اس میں ہے کہ آیا یہ زندگی دنیوی زندگی ہے ؟ دنیوی زندگی کے لوازم اور تکالیف ان پر عائد ہوتی ہیں، قبور میں نما ز یا تسبیح برزخی طبیعت کاتقاضا ہے؟ یا شرعی تکلیف کا نتیجہ؟ جو لوگ دنیوی زندگی کے اس معنی سے قائل ہیں ان سے واقعی اختلاف اور آئندہ گذارشات میں مولانا نظر اور مولانا محمد زاہد صاحب کے ارشادات کی چھان پھٹک اسی زندگی کے پیش نظر کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کی سلامتی اور مٹی سے غیر متاثر ہونا اس میں بھی اختلاف نہیں۔ غرض جو کچھ کتاب و سنت میں صراحتاً آیا اور صحیح احادیث اس پر ناطق ہیں اس میں کوئی نزاع نہیں۔
حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بریلوی عقیدہ:
اس معاملہ میں مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی قابل شکر یہ ہیں انہوں نے موضوع کو وضاحت سے سامنے رکھا ہے دلیل ہو یا نہ ہو لیکن انہوں نے فرمانے میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی۔
فرماتے ہیں:۔
"
فانھم (الانبیاء) صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہ علیھم طیبون طاھرون احیاء وامواتا بلی لاموت لھم الا انیا تصدیقا للوعد تم ھم احیاء ابدًا حیات حقیقیۃ دنیاویۃ روحانیۃ وجسمانیۃ کما ھو معتقد اھل السنۃ والجماعۃ (بریلویہ) ولذالایورثون ویمتلنع تزوج نساء ھم صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیھم بخالف الشہداء الذین نص الکتاب العزیز انھم احیاء ونھی ان یقال لھم اموات" (فتاویٰ رضویۃ جلد اول ،ص٦١۰(
خان صاحب فرماتے ہیں:
" انبیاء علہیم السلام پر ایک آن کے لیے موت آتی ہے اس کے بعد روحانی اور جسمانی لحاظ سے ان کو حقیقی زندگی اور ابدی حیات حاصل ہوتی ہے، یہ اہل سنت کا