کتاب: مشروع اور ممنوع وسیلہ کی حقیقت - صفحہ 336
معلوم ہوا کہ مزارات کی چوکھٹوں،قبر کی جالیوں یا اور کسی جگہ کو بوسہ دینا قطعاً حرام ہے۔
رہا شفاعت کا مسئلہ تو دنیا اور آخرت کی شفاعت میں بڑا فرق ہے۔دنیا میں شفاعت کا مفہوم یہ ہے کہ خطاکار آدمی دوسرے کوواسطہ بناتا ہے کہ رئیس کے پاس سے معافی دلوا دے۔خواہ یہ خطا کار سخت قسم کا مجرم اور عفو و کرم کا مستحق نہ ہو جب بھی اس کی معافی لاگ لگاؤ سے کرالی جاتی ہے۔
لیکن آخرت میں شفاعت کا معاملہ ہی دوسرا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت میں شفاعت کی راہ محدود کر دی ہے۔یہ شفاعت صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں،جن سے اللہ راضی ہو اور جن کو شفاعت کی اجازت حاصل ہو،اور وہ بھی صرف ان لوگوں کےحق میں شفاعت کی جاسکے گی جو اس کے مستحق ہوں گے۔لہٰذا شفاعت کا یہ سب معاملہ اللہ کے حکم و اجازت سے متعلق ہے۔ہم یہ بہلے سے جان ہی نہیں سکتے کہ اللہ کن کواجازت دے گا اور اس کے لیے دے گا؟
بہرحال،قبروں کی غیر شرعی زیارت،ان کا طواف،ان کی چوکھٹوں اور مقصوروں کا چومنا،اولیاء اللہ سے شفاعت کا مانگنا سب قطعاً حرام ہیں۔کیونکہ یہ سب شریعت کے منافی ہیں اورشر ک ہیں۔لہٰذا علماء کرام کو چاہیے کہ ان حقائق کی وضاحت کے لیے اچھے لوگوں کی تنظیم کریں۔کیونکہ نہ صرف عوام بکلہ کتنے خواص بھی ہیں جن کو اسلام کی صحیح معرفت حاصل نہیں ہے۔وہ ان خلاف اسلام