کتاب: مشروع اور ممنوع وسیلہ کی حقیقت - صفحہ 335
پہلے یہ حقیقت معلوم کرنی چاہیے کہ اسلام کی دعوت کی اصل توحید پر قائم ہے،اوراسلام سختی کے ساتھ ہر اس چیز کے خلاف لڑ رہا ہے جو شرک کے دلدل کے قریب لے جانے والی ہو۔اور قبروں اور مردوں کا وسیلہ لینا شرک کی طرف کھینچنے والی چیز ہے اور یہ قدیم جاہلیت کی عادت ہے،چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کو بت پرستی سے منع کیا تو انہوں نے یہی جواب دیا:مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللّٰہِ زُلْفَى(ہم تو ان بتوں کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے)ٹھیک یہی دلیل آج وہ لوگ بھی دیتے ہیں جو حاجت روائی اور تقرب الہٰی کے لیے اولیاء اللہ کے وسیلہ کے داعی ہیں۔
اور ان زیارتوں میں جو اعمال قبیحہ کئے جاتے ہیں وہ سب اسلام کی تعلیمات کے بالکل منافی ہیں۔
مثلاص طواف،اسلام میں صرف کعبۃ اللہ ہی کے اردگرد مشروع ہے۔کعبہ کے علاوہ دوسرے مکان کا طواف شرعاً حرام ہے۔
بوسہ دینا،اسلام میں صرف حجر اسود کےلیے مشروع ہے حتی کہ حجر اسود کے بارے میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول موجود ہے جو انہوں نے حجراسود کو بوسہ دیتے وقت فرمایا تھا:’’اے حجر اسود،میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے،نفع و نقصان کا تو ذرا بھی مالک نہیں۔اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی بوسہ نہ دیتا۔‘‘