کتاب: مشروع اور ممنوع وسیلہ کی حقیقت - صفحہ 333
جولوگ مخلوقات کی ذات کے وسیلہ کے قائل نہیں وہ اعمال صالحہ کے وسیلہ کے قائل ہیں حالانکہ اعمال‘ اعراض ہیں(جو قائم بالذات نہیں بلکہ جوہر کے ساتھ قاہم ہیں)اور ذات عرض سے بہتر ہے علامہ رشید رضا نے اس کا جواب ’’صیانۃ الانسان عن وسوسۃ الشیخ دحلان‘‘کے حاشیہ میں دیا ہے کہ ’’اعمال صالح کا وسیلہ ‘تقرب الٰہی کا وہ مشروع طریقہ ہے جو اجماع اور نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور امرمعقول بھی ہے کیونکہ اعمال صالحہ ‘عمل کرنے والے کے نفس کو پاک وصاف کرتے ہیں اور اﷲکی رضا اور دعا کی قبولیت کا اس کو اہل بناتے ہیں لیکن دوسرے کی ذات کو تمہارے نفس کے تزکیہ میں کیا دخل؟کیونکہ یہ ذات بھی تو خود اپنے ہی عمل سے پاک وصاف ہوئی ہے۔ارشاد الٰہی ہے:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا(الشمس) اور عمل ہی ذات کو سنوارتا ہے۔اگر عمل نہ ہو تو ذات ذکر کے قابل بھی نہیں ‘اور عمل ہی خیر وشر میں ذات کی معرفت کا ذریعہ ہے۔اگر عمل بہتر ہے تو ذات اسی بہتر عمل سے پہچانی جاتی ہے۔اگر عمل برا ہو تو ذات ببی بری مشہور ہوتی ہے۔اس طرح یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ذات عمل کے تابع ہے۔عمل ذات کے تابع نہیں ہے۔ نبی صلی ا ﷲ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام ‘اسی طرح صدیقین ‘شہداء اور صالحین سب اپنے اعمال صالحہ کی بدولت ہی نیک نام ہوئے۔انہیں اعمالِ عظیمہ ہی سے ان کی ذات مکرم ومعزز ہوئی۔اﷲتعالیٰ کا ارشا د ہے۔