کتاب: مشروع اور ممنوع وسیلہ کی حقیقت - صفحہ 332
بارگاہ میں کسی مخلوق کے وسیلہ کو حرام سمجھتے تھے۔کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام اسی عقیدہ کے داعی تھے کہ اﷲکو مخلوق کے واسطے کی ضرورت نہیں اور بارگاہ الٰہی میں ذات مخلوق کا وسیلہ حرام ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے۔’’کسی شخص کیلئے جائز نہیں کہ وہ اﷲکو اس کی ذات کے سوا کسی اور کے ذریعہ پکارے ‘اور میں حرام سمجھتا ہوں کہ کوئی اس طرح دعا کرے ‘’’اے اﷲ‘میں تیرے عرش کی کرسی کی عزت کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ‘یافلاں کے کے حق کے واسطے سے ‘یا تیرے انبیاء اور رسولوں اور بیت ا کے واسطے سے سوال کرتا ہوں۔
اور حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہ مسلک اچھی طرح معلوم تھا ایسی صورت میں وہ خود امام صاحب ہی کی ذات کا وسیلہ کیسے لے سکتے تھے؟امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ دونوں اﷲاور رسول کی محبت چاہتے تھے۔جو بات اللّٰہ اور اس کے رسول نے پسندکرلی وہی ان دونوں کو بھی پسند تھی ‘اورجن باتوں سے اﷲاور اس کے رسول غضبناک ہوتے تھے ‘ان سے یہ دونوں بھی غضبناک ہوتے تھے۔لہٰذا ایسی لغو اور ان کے عقیدہ وایمان کے بالکل صریح مخالف بات کو ان کی طرف منسوب کردینا سخت گناہ اور جرم ہے جن سے یہ دونوں ہی ائمہ امت بری ہیں۔
شیخ دحلان نے ’’الدررالسنیہ فی الرد علی الوھابیہ‘‘میں لکھا ہے کہ