کتاب: مشروع اور ممنوع وسیلہ کی حقیقت - صفحہ 330
لیا۔چنانچہ ان کے یہ اشعار ہیں۔
اٰل النبی ذریعتی وھم الیہ وسیلتی
آل نبی میرا ذریعہ ہیں اور وہ اﷲتک میرا وسیلہ ہیں
ارجوا بھم اعطی غدا بیدی الیمین صحیفتی
ان کے وسیلہ سے مجھ کو امید ہے کہ کل میرے داہنے ہاتھ میں میرا نامہ اعمال دیا جائے گا
یہ آسان ہے کہ کسی آدمی پرکوئی تہمت لگادی جائے ‘لیکن صرف الزام کافی نہیں ‘اس کے ثبوت اور دلیل کی بھی ضرورت ہے۔ورنہ دعویٰ بلا دلیل بے قیمت ہے۔اور بلا ثبوت جس پر بھی تہمت لگائی جائے گی وہ اس سے بری وپاک سمجھا جائے گا۔
امام شافعی رحمۃ اﷲعلیہ کا جودینی مقام اور کتاب و سُنّت کے ساتھ ان کے تمسک کاجو حال ہے وہ سب پر عیاں ہے ایسے ناصر السنۃ اور قاطع البدعۃ شیخ جلیل وامام کبیر کی بابت یہ کہنا کہ وہ عقیدہ توحید کی دھجیاں اڑائیں گے؟ہمارا دعویٰ ہے کہ ان اشعار کی نسبت امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف غلط اور جھوٹ ہے اور یہ ان پر سراسر تہمت والزام ہے جس کا نہ کوئی ثبوت ہے نہ دلیل۔
یہ صحیح ہے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ کو اہل بیت سے بڑی محبت تھی ‘لیکن ایسی محبت نہیں کہ جو کتاب وسنت کی تعلیمات کو پھاند جائے۔سب جانتے ہیں کہ مخلوقات کی ذات کا وسیلہ شرع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں ‘بلکہ وہ جاہلیت کا شعار تھا جس سے امام عالی مقام بلند وپاک تھے۔لہٰذا بلا ثبوت امت کے