کتاب: مختصر مسائل و احکام حج و عمرہ اور قربانی و عیدین - صفحہ 58
خطبہ دے ،جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کیا تھا۔(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارقطنی،بیہقی،ابن حبان،مسنداحمد) یہ تو عید الفطر کے بارے میں ہے ،جبکہ عید الاضحیٰ کو بھی اسی پر قیاس کیا گیا ہے۔(سبل السلام۱؍۲؍۶۴،نیل الاوطار ۲؍۳؍۳۱۰) عید مبارک کہنے کا مسنون انداز: [215] عید ملتے وقت عید مبارک،عید مبارک کی بجائے یہ مسنون وصحیح الفاظ کہیں : ((تَقَبَّلَ اَللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ)) ’’اللہ ہماری اور آپ کی (عبادات) قبول فرمائے۔‘‘ (صلوٰۃ العیدین محاملی،الترغیب للاصبہانی،للتفصیل تمام المنّۃ ص۳۵۴۔۳۵۶ الجوھر النقی علی البیہقی ۳؍۳۲۰ و صول الامانی الی اصول التہانی للسیوطی ص۱۰۹۔ الحاوی) [216] نمازِ عید کے بعد مصافحہ و معانقہ(گلے ملنا) ع رسمِ دنیا بھی ہے،موقع بھی ہے،دستور بھی ہے۔ مگر شرعاً یہ ثابت نہیں ہے ،بلکہ یہ ایک خودساختہ فعل اور ایجادِنو ہے۔حنفی ،شافعی،مالکی حنبلی اور اہلحدیث علما ء نے اسکے خلاف بہت کچھ لکھا ہے۔ (فتاویٰ علّامہ شمس الحق عظیم آبادی صاحب عون المعبود ص۱۱۶۔۱۲۵ مرتبہ مولانا محمد عزیرشمس) اجتماعِ عید وجمعہ: [217] کبھی عید وجمعہ یکجا ہو جائیں تو یہ ایک افواہ کے مطابق’’بھاری‘‘ ہیں ۔ ع ’’یہ اُمت خرافات میں کھوگئی ۔ ‘‘ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عید وجمعہ کے یکجا ہوجانے پر خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ’’آج تمہارے لئے دوعیدیں جمع ہوگئی ہیں ۔ (ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،ابن خذیمہ،بیہقی،احمد، حاکم) یہی بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے یکجا