کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 99
عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی(حج کیا)،انہوں نے بھی یہ روزہ نہ رکھا،اور میں بھی[حج کے موقع پر]یہ روزہ نہیں رکھتا،اور[حج میں]اس کے رکھنے کا حکم نہیں دیتا اور روکتا بھی نہیں۔‘‘ تنبیہ:ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے مقام پر یوم عرفہ[ذوالحجہ]کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا،‘‘ لیکن یہ حدیث ضعیف ہونے کی بنا پر قابلِ احتجاج نہیں۔[1] ۳:دس ذوالحجہ کو قربانی کرنا: عشرہ ذوالحجہ کے آخری دن کا نام[یوم النحر]قربانی کا دن ہے۔ اور اس دن قربانی کرنا بہت بڑے اجر و ثواب والا عمل ہے۔[2] تنبیہ:قربانی کرنے والے ہلال ذوالحجہ کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑیں۔[3] (ج) عشرہ ذوالحجہ میں اعمال حج ان دس دنوں میں کچھ اعمال صرف حجاج کے کرنے کے ہیں،توفیقِ الٰہی سے ذیل میں ان اعمال کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے: ا:آٹھ ذوالحجہ کو منیٰ روانہ ہونا: حج کے اعمال پانچ یا چھ دنوں میں ادا کیے جاتے ہیں۔ان اعمال کی ابتدا آٹھ [1] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ،رقم الحدیث ۴۰۴،۱؍۳۹۷۔ [2] قربانی کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کتاب ہذا کے صفحات۲۳۔۲۹میں ملاحظہ کیجئے۔ [3] اس بارے میں تفصیل کتاب ہذا کے صفحات ۲۹۔۳۲میں گزر چکی ہے۔