کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 98
فَأَرْسَلَتُ إِلَیْہِ بِقَدَحِ لَبَنٍ،وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِیْرٍہِ،فَشَرِبَہ۔‘‘[1] ’’یقینا کچھ لوگوں نے ان کے سامنے عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلاف کیا:کچھ نے کہا،کہ:’وہ روزے سے ہیں‘‘ اور کچھ نے کہا،کہ:’’ان کا روزہ نہیں ہے۔‘‘ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور تب آپ اپنے اونٹ پر تھے،تو آپ نے اس کو پی لیا۔‘‘ حضرات خلفائے ثلاثہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حج کے موقع پر اس دن کا روزہ نہ رکھا۔امام ترمذی اور امام عبد الرزاق نے ابی نجیح سے روایت کی ہے،کہ عرفہ کے روزے کے متعلق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا،تو انہوں نے فرمایا: ’’حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم فَلَمْ یَصُمْہُ،وَمَعَ أَبِيْ بَکَرٍ رضی اللّٰهُ عنہ فَلَمْ یَصُمْہُ،وَمَعَ عُمَرَ رضی اللّٰهُ عنہ فَلَمْ یَصُمْہُ،وَمَعَ عُثْمَانَ رضی اللّٰهُ عنہ فَلَمْ یَصُمْہُ،وَأَنَا لَا أَصُوْمُہ،وَلَا أٓ مُرُ بِہِ،وَلَا أَنْھَی عَنْہُ۔‘‘[2] ’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا،آپ نے[اس دن کا]روزہ نہ رکھا،ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی(میں نے حج کیا)،انہوں نے یہ روزہ نہ رکھا،عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی(حج کیا)،انہوں نے بھی یہ روزہ نہ رکھا، [1] صحیح البخاري،کتاب الحج،باب الوقوف علی الدابۃ بعرفۃ،رقم الحدیث ۱۶۶۱،۳؍۵۱۳۔ [2] جامع الترمذي،أبواب الصوم،باب ما جاء فی کراھیۃ صوم یوم عرفۃ بعرفۃ،۲؍۵۶(ط:دارالکتاب العربي بیروت)؛ والمصنف،کتاب الصیام،باب صیام یوم عرفۃ،رقم الحڈیث ۷۸۲۹،۴؍۲۸۵۔الفاظِ حدیث جامع الترمذی کے ہیں،اور شیخ البانی نے اسے[صحیح الإسناد]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن الترمذي ۱؍۲۲۸)۔