کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 96
’’مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ وَلَا أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنَ الْعَمَلِ فِیْہِنَّ،مِنْ ہٰذِہٖ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ،فَأَکْثِرُوْا فِیْہِنَّ مِنَ التَّہْلِیْلِ وَالتَّکْبِیْرِ وَالتَّحْمِیْدِ۔‘‘[1] ’’کوئی دن بارگاہِ الٰہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا[اچھا]عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے،پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے[لا إلہ الا اللّٰہ]،[اللّٰہ اکبر]اور[الحمد للّٰہ]کہو۔‘‘ سلف صالحین اس بات کا بہت اہتمام کرتے۔امام بخاری نے بیان کیا ہے: ’’وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُوْہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہم یَخْرُجَانِ إِلَی السُّوْقِ فِيْ أَیَّامِ الْعَشْرِ یُکَبِّرَان،وَیُکَبِّرُ النَّاسُ بِتَکْبِیْرِہِمَا،وَکَبَّرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ رَحِمَہُمَا اللّٰہ تَعَالَی خَلْفَ النَّافِلَۃ۔‘‘[2] ’’ان دس دنوں میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم تکبیر پکارتے ہوئے بازار نکلتے،اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے اور محمد بن علی[3]رحمہما اللہ نفلی نماز کے بعد تکبیر کہتے۔‘‘ ۲:نو ذوالحجہ کا روزہ رکھنا: امام مسلم نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ: ’’سُئِلَ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ؟ [1] المسند،رقم الحدیث ۵۴۴۶،۷؍۲۲۴۔شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۷؍۲۲۴)۔ [2] صحیح البخاري،کتاب العیدین،باب فضل العمل فی أیام التشریق،۲؍۴۵۷۔ [3] (محمد بن علی رحمہما اللہ تعالی):ان سے مراد حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ تعالی ہیں۔(ملاحظہ ہو:فتح الباري ۲؍۴۵۸)۔