کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 91
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ،حضرات ائمہ حسن،عطا،عکرمہ،مجاہد،قتادہ اور شافعی نے بھی اس آیت کریمہ کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔[1] ذکرِ الٰہی تو ہر روز بندوں پر لازم ہے،لیکن مولائے کریم کا اپنی یاد کے لیے کچھ دنوں کا خصوصی طور پر ذکر فرمانا،یقینا ان دنوں کی رفعت اور عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔ ۴: ان دس دنوں میں کیا جانے والا اچھا کام اللہ تعالیٰ کو سال کے باقی دنوں میں کیے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ پیارا ہے۔حضرات ائمہ ابوداؤد،ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے،کہ انہوں نے کہا،کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مَا مِنْ أَیَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیْہَا أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذِہِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ۔‘‘ قَالُوْا:’’یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!وَلَا الْجِہَادُ فِي سَبِیْلِ اللّٰہِ؟‘‘ قَالَ:’’وَلَا الْجِہَادُ فِي سَبِیْلِ اللّٰہِ۔‘‘ قَالَ:’’إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ،فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَيئٍ۔‘‘[2] ’’کسی بھی دن میں[کیا ہوا]اچھا کام اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں میں[کیے جانے والے نیک]عمل سے زیادہ پیارا نہیں۔‘‘ [1] ملاحظہ ہو:زاد المسیر ۵؍۴۲۵۔ [2] سنن أبي داود،کتاب الصیام،باب فی صوم العشر،رقم الحدیث ۲۴۳۴،۷؍۷۴؛ وجامع الترمذي،أبواب الصوم،باب ما جاء في العمل في أیام العشر،۲؍۱۵۸۔(ط:دارالکتاب العربي)؛ وسنن ابن ماجہ،أبواب ما جاء في الصیام،باب صیام العشر،رقم الحدیث(۱۷۳۱،۱؍۳۱۷۔الفاظِ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبي داود ۲؍۴۶۲؛ وصحیح سنن الترمذي ۱؍۲۲۹؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۱؍۲۸۹)۔