کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 90
عَشْرٍ} سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں اور یہی قول مجاہد،قتادہ،ضحاک،سدی اور کلبی کا ہے۔[1] اور بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ کا ان دنوں کی قسم کھانا ان کی شان و عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ ۲: ان دس دنوں کے ساتھ حج کے مہینوں کا اختتام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلْحَجُّ أَشْہُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ}[2] [حج کے مہینے معلوم ہیں]۔ حافظ ابن رجب نے لکھا ہے:’’ذوالحجہ کے دس دنوں کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے،کہ وہ معلوم مہینوں کا آخری حصہ ہیں اور وہ مہینے حج کے ہیں،جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلْحَجُّ أَشْہُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ} ’’اور وہ شوال،ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔‘‘[3] ۳: اللہ تعالیٰ نے ان دس دنوں میں اپنے ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا۔ارشادِ ربانی ہے: {وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ}[4] [اور معلوم دنوں میں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کریں] امام بخاری نے ذکر کیا ہے،کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا،کہ ان معلوم دنوں سے مراد عشرہ ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔[5] [1] ملاحظہ ہو:تفسیر البغوي ۴؍۴۸۱؛ نیز ملاحظہ ہو:زاد المسیر ۹؍۱۰۳۔ [2] سورۃ البقرۃ ؍ جزء من الآیۃ ۱۹۷۔ [3] لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف ص ۴۷۱۔ [4] سورۃ الحج ؍ جزء من الآیۃ ۲۸۔ [5] ملاحظہ ہو:صحیح البخاري،کتاب العیدین،باب فضل العمل فی أیام التشریق،۲؍۴۵۷۔