کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 89
اللہ رب العزت ہر چیز کے تنہا خالق اور منفرد مالک ہیں،اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتے ہیں،دوسروں پر فضیلت عطا فرماتے ہیں۔بعض انسانوں کو دوسرے سے اعلیٰ ٹھہرایا،بعض مقامات کو دوسری جگہوں سے افضل قرار دیا اور بعض زمانوں اور اوقات کو دوسرے زمانوں اور اوقات پر فوقیت اور برتری عطا فرمائی۔ اسی سنت الٰہیہ کا ایک مظہر یہ ہے،کہ اللہ مالک الملک نے ماہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کو سارے سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں اعلیٰ،افضل،بالا اور برتر قرار دیا۔ذیل میں توفیقِ الٰہی سے ان دنوں کے متعلق تین پہلوؤں سے گفتگو کی جارہی ہے: ا: عشرہ ذوالحجہ کے فضائل ب: عشرہ ذوالحجہ کے اعمال ج: عشرہ ذوالحجہ میں اعمال حج (ا) عشرہ ذوالحجہ کے فضائل قرآن و سنت میں ان دس دنوں کی شان و عظمت کے متعدد دلائل و شواہد ہیں۔مولائے کریم کی توفیق سے ان میں سے چھ دلیلیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں: ۱: سورۃ الفجر میں ہے: {وَالْفَجْرِ۔وَلَیَالٍ عَشْرٍ}[1] [قسم ہے فجر اور دس راتوں کی]۔ امام بغوی نے تحریر کیا ہے،کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،کہ {وَلَیَالٍ [1] سورۃ الفجر ؍ الآیتان ۱۔۲۔