کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 85
ہوگا اور اس کی معافی ہوگی۔‘‘ ۲: حضرات ائمہ احمد،ابوداود،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،ابن حبان اور حاکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا،کہ: ’’أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَیْنَ وَالْأُذُنَ،وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَائَ،وَلَا مُقَابَلَۃٍ،وَلَا مُدَابَرَۃٍ،وَلَا شَرْقَائَ،وَلَا خَرْقَائَ۔‘‘[1] ’’ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا،کہ ہم[قربانی والے جانور کی]آنکھوں اور کانوں کی اچھی طرح پڑتال کرلیا کریں اور وہ جانور ذبح نہ کریں،جو یک چشم ہو،یا جس کے کان آگے سے،یا پیچھے سے کٹ کر لٹک گئے ہوں،یا جس کے کان لمبائی میں کٹے ہوں یا عرض میں[یا جس کے کانوں میں سوراخ ہو]۔‘‘ مذکورہ بالا حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے،کہ درج ذیل عیوب والے جانوروں کی قربانی کرنا درست نہیں۔ ۱: یک چشم،جس کا یک چشم ہونا صاف طور پر معلوم ہو۔ ۲: بیمار،جس کی بیماری واضح ہو۔ ۳: لنگڑا،جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو۔ ۴: بوڑھا،جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔ [1] المسند،جزء من رقم الحدیث ۱۲۷۴،۲؍۳۱۵۔حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:’’احمد اور چاروں[ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ]نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔‘‘(بلوغ المرام ص ۲۸۱)؛ شیخ احمد شاکر نے بھی اس کی سند کو[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۲؍۳۱۵)۔