کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 82
’’یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ آپ کی قربانی کے اونٹوں[کے ذبح کرنے]اور ان کے گوشت کی تقسیم کرنے کی نگرانی کریں۔اور ان کے گوشت،کھالیں اور جھولیں سب کچھ تقسیم کردیں اور ذبح وغیرہ کرنے کے عوض میں[قصاب کو]اس میں سے کچھ نہ دیں۔‘‘ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا قصاب کو اجرت سے الگ قربانی کے جانور میں سے کچھ دینا جائز ہے؟ امام ابن خزیمہ اس بارے میں فرماتے ہیں: ’’إِذَا أَعْطَی أُجْرَتَہ کَامِلَۃً،ثُمَّ تَصَدَّقَ عَلَیْہِ،إِذَا کَانَ فَقِیْرًا،کَمَا یَتَصَدَّقُ عَلَی الْفُقَرَائِ فَلَا بَأْسَ بِذٰلِکَ۔‘‘[1] ’’قصاب کو پوری اجرت دینے کے بعد،اگر اس کی غربت کے پیش نظر،دیگر مسکینوں کی طرح قربانی کے جانور میں سے کچھ دیا جائے،تو کچھ حرج نہیں۔‘‘ تنبیہ:البتہ اس بات کا اہتمام کیا جائے،کہ اس بنا پر قصاب اپنی اجرت میں کمی یا رعایت نہ کرے،اگر ایسا خدشہ ہو،تو سلامتی اسی بات میں ہے،کہ اس کو قربانی میں سے کچھ بھی نہ دیا جائے۔ (۲۲) جن جانوروں کی قربانی درست نہیں مسلمان کو چاہیے،کہ ایسا جانور قربانی کے لیے خریدے،جو صحت مند،چاق [1] منقول:از فتح الباري ۳؍۵۵۶۔امام بغوی نے بھی یہی بات بیان فرمائی ہے۔(ملاحظہ ہو:شرح السنۃ ۷؍۱۸۸)۔