کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 81
امام ابن حزم تحریر کرتے ہیں،کہ:جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کے موقع پر بہت سے بدوی لوگ فتنہ کے پیش نظر مدینہ آگئے اور وہاں تنگی کے حالات پیدا ہوگئے،تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا خطبہ میں لوگوں کو اسی بات کا حکم دیا،جس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگی کے زمانہ اور مفلوک الحال لوگوں کے مدینہ طیبہ آنے کے موقع پر دیا تھا۔[1] اور شاید کہ… واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب… یہی رائے درست ہو،کہ عام حالات میں مسلمان قربانی کا گوشت جب تک چاہیں کھاتے رہیں،لیکن تنگی اور عسرت کے زمانے میں تین دن سے زیادہ نہ کھائیں،تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ گوشت پہنچ سکے۔ (۲۱) قصاب کو قربانی میں سے بطور اجرت کچھ نہ دیا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی کوئی چیز بھی بطور اجرت قصاب کو دینے سے منع فرمایا ہے۔امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا ہے،کہ: ’’أَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم أَمَرَہٗ أَنْ یَّقُوْمَ عَلٰی بُدْنِہِ،وَأَنْ یَّقْسِمَ بُدْنَہٗ کُلَّہَا،لُحُوْمَہَا وَجُلُوْدَہَا وَجِلَالَہَا،وَلَا یُعْطِيْ فِيْ جِزَارَتِہَا شَیْئًا۔‘‘[2] [1] ملاحظہ ہو:المحلّی،مسألۃ ۹۸۴،۸؍۵۸۔ [2] متفق علیہ:صحیح البخاري،کتاب الحج،باب یتصدق بجلود الھدي،رقم الحدیث ۱۷۱۷،۳؍۵۵۶؛ وصحیح مسلم،کتاب الحج،باب في الصدقۃ بلحوم الھدي وجلودہا وجلالہا،رقم الحدیث ۳۴۹۔(۱۳۱۷)،۲؍۹۵۴۔الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔