کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 80
امام شافعی نے اس بارے میں تحریر کیا ہے:’’اگر غریب اور محتاج لوگ آجائیں،تو تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہوگی اور اگر ایسی صورت حال نہ ہو،تو قربانیوں کا گوشت کھانے،ذخیرہ کرنے اور صدقہ کرنے کی اجازت ہوگی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے:’’اس بات کا بھی احتمال ہے،کہ تین دن کے بعد قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہر حالت میں منسوخ ہو۔‘‘[1] امام ابن حزم کی رائے میں تنگی یا مفلوک الحال لوگوں کی آمد کے موقع پر تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہوگی۔انہوں نے اپنی رائے کی تائید میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبہ کو پیش کیا ہے،جس میں انہوں نے مدینہ طیبہ میں تنگی کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا،امام بخاری نے ابوعبید سے روایت کی ہے،کہ ’’میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ[عید الاضحی کے موقع پر]حاضر ہوا۔انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا: ’’إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم نَہَاکُمْ أَنْ تَأْکُلُوْا لُحُوْمَ نُسُکِکُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ۔‘‘[2] ’’یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا۔‘‘ [1] منقول از:المرجع السابق ۱۰؍۲۸۔ [2] صحیح البخاري،کتاب الأضاحي،باب ما یؤکل من لحوم الأضاحي،وما یتزود منہا،رقم الحدیث ۵۵۷۳،۱۰؍۲۴۔