کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 79
وَتَصَدَّقُوْا۔‘‘[1] ’’میں نے تو غریبوں کے آنے کی وجہ سے تمہیں منع کیا تھا۔[اب]تم کھاؤ،ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔‘‘ ۲: مسند احمد کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ’’إِنِّیْ کُنْتُ اَمَرْتُکُمْ أَنْ لَا تَأْکُلُوْا الْأَضَاحِي،فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ لِتَسَعَکُمْ،وَإِنِّیْ أُحِلُّہٗ لَکُمْ،فَکُلُوْا مِنْہُ مَا شِئْتُمْ۔‘‘[2] ’’میں نے تمہیں حکم دیا تھا،کہ تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہ کھاؤ،تاکہ وہ[ان کا گوشت]سب لوگوں تک پہنچ جائے اور میں اب تمہارے لیے یہ جائز قرار دیتا ہوں،کہ جب تک چاہو،ان کا گوشت کھاؤ۔‘‘ علاوہ ازیں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور اس کے دوسرے سال اس کی اجازت دے دی۔اس طرح یہ ممانعت نو ہجری میں دی گئی اور اجازت دس ہجری میں دی گئی،کیونکہ حجۃ الوداع دس ہجری میں ادا کیا گیا۔[3] ۳: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اب بھی تنگی اور قحط سالی کے حالات پیدا ہوں،تو کیا لوگوں کو تین دن سے زیادہ اپنی قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کرنا جائز ہوگا؟ [1] صحیح مسلم،کتاب الأضاحي،باب بیان ما کان من النہي من أکل لحوم الأضاحي بعد ثلاث فی أول الإسلام،وبیان نسخہ،وإباحتہ إلی متی شاء،جزء من رقم الحدیث ۲۸۔(۱۹۷۱)،۳؍۱۵۶۱۔ [2] منقول از فتح الباري ۱۰؍۲۵۔ [3] ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۱۰؍۲۵۔۲۶۔