کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 76
تھا،پس[اب]تم جتنا چاہو[اس میں سے اپنے]کھانے کے لیے روک[یعنی ذخیرہ کر]لو۔‘‘ اور جامع الترمذی میں ہے: ’’فَکُلُوْا مَا بَدَالَکُمْ،وَأَطْعِمُوْا،وَادَّخِرُوْا۔‘‘[1] ’’پس تم[اس میں سے]جتنا چاہو،خود کھاؤ،کھلاؤ اور ذخیرہ کرلو۔‘‘ اس حدیث سے واضح طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے،کہ تقسیم میں ایک تہائی،یا نصف کھانے کی کوئی پابندی نہیں۔امام شوکانی نے تحریر کیا ہے:’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے،کہ کھانے والے گوشت کی مقدار متعین نہیں۔قربانی کرنے والا شخص جس قدر چاہے،اس میں سے کھائے،خواہ وہ مقدار زیادہ ہو،البتہ اس بات کا خیال رکھے،کہ اس قدر تناول نہ کرے،کہ[أَطْعِمُوْا][کھلاؤ]والی بات ہی ختم ہوجائے۔‘‘[2] یہی رائے… واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب… درست معلوم ہوتی ہے،کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے،کہ جتنا چاہو کھاؤ۔علاوہ ازیں تین یا دو برابر حصوں میں تقسیم کرنے کی تائید میں جن آیات یا احادیث سے استدلال کیا گیا ہے،ان میں یہ بات نہیں،کہ برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ (۲۰) قربانی کے گوشت کا ذخیرہ کرنا توفیقِ الٰہی سے اس موضوع کے متعلق تین باتیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں: [1] جامع الترمذي،أبواب الأضاحي،باب فی الرخصۃ في أکلہا بعد ثلاث،جزء من رقم الحدیث ۱۵۴۶،۵؍۸۲۔۸۳۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]کہا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن الترمذي ۲؍۹۲)۔ [2] نیل الأوطار ۵؍۲۲۔