کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 75
کھلائے۔[1] اس رائے کی تائید میں آیت کریمہ {فَکُلُوْا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ} [2][پس ان کے گوشت سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو(بھی) کھلاؤ]،اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی[کُلُوْا،وَأَطْعِمُوْا،وَادَّخِرُوْا[3]][کھاؤ،کھلاؤ اور ذخیرہ کرو]سے استدلال کیا گیا ہے۔ ب: بعض علماء کی رائے میں مستحب یہ ہے،کہ آدھا گوشت کھایا جائے اور آدھا دوسروں کو کھلایا جائے۔[4] اس رائے کی تائید میں آیت {فَکُلُوْا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ}[پس قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ]سے استدلال کیا گیا ہے۔ ج: بعض علماء کی رائے میں گوشت کی تقسیم میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں۔اور اس رائے کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے،جس کو امام مسلم نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،کہ انہوں نے بیان کیا،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’نَہَیْتُکُمْ عَنْ لَّحُوْمِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ،فَأَمْسِکُوْا مَا بَدَا لَکُمْ۔‘‘[5] ’’میں نے تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت[کے کھانے]سے روکا [1] ملاحظہ ہو:فتح الباري ۱۰؍۲۷۔ [2] سورۃ الحج ؍ جزء من الآیۃ ۳۶۔ [3] حدیث کی تخریج ص ۷۳میں ملاحظہ کیجئے۔ [4] ملاحظہ ہو:فتح الباري ۱۰؍۲۷۔ [5] صحیح مسلم،کتاب الأضاحي،باب ما کان من النہي عن أکل لحوم الأضاحي…،جزء من رقم الحدیث ۳۷۔(۱۹۷۷)،۳؍۱۵۶۳۔۱۵۶۴۔