کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 74
فرض ہے،خواہ وہ ایک لقمہ ہی تناول کرے،اسی طرح اس پر اس گوشت میں سے غریبوں اور محتاجوں کو دینا فرض ہے،خواہ تھوڑا دے یا زیادہ۔[1] ب: جمہور علمائے امت کے نزدیک قربانی کرنے والے کے لیے قربانی کے گوشت میں سے تناول کرنا جائز اور مستحب ہے۔ حافظ ابن جوزی نے {فَکُلُوْا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ} کی تفسیر میں تحریر کیا ہے: ’’یہ حکم اباحت کے لیے ہے،کیونکہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اپنی قربانیوں کے گوشت کو کھانا ناجائز سمجھتے تھے،تو اللہ عزوجل نے انہیں آگاہ فرمایا،کہ ان کے گوشت کا کھانا جائز ہے۔‘‘[2] امام قرطبی {فَکُلُوْا مِنْہَا } کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: ’’جمہور کے نزدیک صیغہ امر سے مقصود(قربانی کے گوشت سے کھانے کی) ترغیب ہے اور یہ بات مستحب ہے،کہ قربانی کرنے والا شخص اپنے حج اور عید الاضحی کی قربانی سے کھائے۔‘‘ [3] حافظ ابن کثیر نے بھی یہی بات تحریر کی ہے [4] اور… واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب… یہی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے،کہ قربانی کے گوشت کو کس طرح تقسیم کیا جائے؟ ۱: امام شافعی کی رائے میں مستحب یہ ہے،کہ تین حصوں میں برابر تقسیم کیا جائے:ایک تہائی خود کھائے،ایک تہائی صدقہ کرے اور ایک تہائی دوسروں کو [1] ملاحظہ ہو:المحلّی،مسألۃ ۹۸۵،۸؍۵۴۔ [2] زاد المسیر ۵؍۴۲۶۔ [3] تفسیر القرطبي ۱۲؍۴۴۔ [4] ملاحظہ ہو:تفسیر ابن کثیر ۳؍۲۴۰۔