کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 73
والے کو(بھی) کھلاؤ]۔ ۳: امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’إِنَّمَا نَہَیْتُکُمْ مِّنْ أَجْلِ الدَّافَّۃِ الَّتِیْ دَفَّتْ،فَکُلُوْا،وَادَّخِرُوْا،وَتَصَدَّقُوْا۔‘‘[1] ’’میں نے تمہیں مفلوک الحال لوگوں کے آنے کی بنا پر[قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ کے لیے ذخیرہ کرنے سے]روکا تھا،پس تم[اب]کھاؤ،ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔‘‘ ۴: امام بخاری نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کُلُوْا،وَأَطْعِمُوْا،وَادَّخِرُوْا۔‘‘[2] ’’کھاؤ،کھلاؤ اور ذخیرہ کرو۔‘‘ مذکورہ بالا آیات و احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے،کہ قربانی کے گوشت کا کھانا،کھلانا،ذخیرہ کرنا اور غریبوں کو دینا،سب صورتیں درست اور صحیح ہیں۔اس موقع پر حضرات مفسرین اور محدثین نے دو سوال اٹھائے۔ان میں سے پہلا سوال یہ ہے،کہ آیا قربانی کرنے والے پر اپنی قربانی کا گوشت کھانا واجب ہے؟ ا: امام ابن حزم کی رائے میں قربانی کرنے والے پر اپنی قربانی کا گوشت کھانا [1] صحیح مسلم،کتاب الأضاحي،باب بیان ما کان من النھي عن أکل لحوم الأضاحي بعد ثلاث فی أول الإسلام،وبیان نسخہ وإباحتہ إلی متی شاء،جزء من رقم الحدیث ۲۸۔(۱۹۷۱)،۳؍۱۵۶۱۔ [2] صحیح بخاري،کتاب الأضاحي،باب ما یؤکل من لحوم الأضاحي،وما ینزوَّد منہا،جزء من رقم الحدیث ۵۵۶۹،۱۰؍۲۴۔