کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 72
فرمایا:’’کُلُوْہُ إِنْ شِئْتُمْ‘‘۔[اگر چاہو تو اس کو کھالو]۔ ۴: اگر ذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلنے والا بچہ زندہ ہو،تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے،کیونکہ تب وہ ایک مستقل جان ہے۔اس بارے میں امام احمد نے فرمایا ہے: ’’إِنْ خَرَجَ حَیًّا،فَلَا بُدَّ مِنْ ذَکَاتِہِ،لِأَنَّہ نَفْسٌ أُخْرَی۔‘‘[1] ’’اگر وہ زندہ نکلے،تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے،کیونکہ وہ ایک مستقل جان ہے۔‘‘ (۱۹) قربانی کے گوشت کی تقسیم قرآن و سنت سے قربانی کا گوشت کھانا،کھلانا،غریبوں کو دینا،ذخیرہ کرنا سب صورتیں ثابت ہیں۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ذیل میں چار دلائل پیش کیے جارہے ہیں: ۱: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَکُلُوْا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ}[2] [پس قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ] ۲: رب عزوجل نے اس بارے میں یہ بھی فرمایا: {فَکُلُوْا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ}[3] [پس ان کے گوشٹ سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے [1] المغني ۱۳؍۳۱۰۔ [2] سورۃ الحج ؍ جزء من الآیۃ ۲۸۔ [3] سورۃ الحج ؍ جزء من الآیۃ ۳۶۔