کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 70
[ذِکْرُ الْبِیَانِ بِأَنَّ الْجَنِیْنَ إِذَا ذُکِّیَتْ أُمُّہُ حَلَّ أَکْلُہُ][1] [اس بات کا ذکر،کہ جب پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کیا جائے،تو اس کا کھانا حلال ہوجاتا ہے] ۲: بعض لوگوں نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے،کہ اس سے مراد یہ ہے،کہ ذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلنے والے بچے کو بھی ماں کی طرح ذبح کیا جائے گا۔ان کی رائے کے مطابق اگر ایسا بچہ مردہ ہوگا،تو اس کا کھانا حرام ہوگا،کیونکہ مردہ ہونے کے سبب اس کا ذبح کرنا ممکن نہیں۔ ان حضرات کی یہ تاویل صحیح نہیں۔درج ذیل حدیث ان کی غلطی کا آشکارا کردیتی ہے: امام ابوداؤد نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا: ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!نَنْحَرُ النَّاقَۃَ،وَنَذْبَحُ الْبَقَرَۃَ وَالشَّاۃَ[أَوِ الشَّاۃَ]فَنَجِدُ فِيْ بَطْنِہَا الْجَنِیْنَ أَنُلْقِیْہِ أَمْ نَأْکُلُہُ؟‘‘ قَالَ:’’کُلُوہُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَکَاتَہُ ذَکَاۃُ أُمِّہِ۔‘‘[2] ’’یارسول اللہ!ہم اونٹنی،گائے اور بکری[یا بکری]کو ذبح کرتے ہیں،تو اس کے پیٹ میں بچہ پاتے ہیں،کیا ہم اس کو پھینک دیں یا کھالیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر پسند کرو،تو اس کو کھالو،کیونکہ اس کا ذبح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔‘‘ اس حدیث میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے استفسار کی موجودگی کے بعد مذکورہ [1] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۱۳؍۲۰۶۔ [2] سنن أبی داود،کتاب الضحایا،باب ما جاء فی ذکاۃ الجنین،رقم الحدیث ۲۸۴۲،۸؍۱۸۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبی داود ۲؍۵۴۴)۔