کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 69
’’یہ حدیث اونٹ کو مذکورہ بالا طریقے کے مطابق ذبح کرنے کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ تنبیہ:بعض لوگوں کی رائے میں کہ اونٹ کو کھڑا کرکے یا بٹھا کر ذبح کرنے میں،فضیلت کے اعتبار سے کچھ فرق نہیں،لیکن یہ رائے قرآن و سنت کے مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں درست نہیں۔ (۱۸) قربانی کے لیے ذبح شدہ جانور کے پیٹ کا بچہ قربانی کی غرض سے ذبح شدہ جانور کے پیٹ سے نکلنے والے بچے کے متعلق چار باتیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ۱: سنتِ مطہرّہ سے یہ بات ثابت ہے،کہ اگر قربانی کے ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے مردہ بچہ نکلے،تو اس کا کھانا حلال ہے،کیونکہ اس کی ماں کا ذبح کرنا،اس کے ذبح کرنے سے کفایت کرتا ہے۔امام احمد اور امام حبان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ذَکَاۃُ الْجَنِیْنِ ذَکَاۃُ أُمِّہِ۔‘‘[1] ’’پیٹ میں موجود بچے کا ذبح،اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔‘‘ اس حدیث پر امام حبان نے درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [1] المسند،رقم الحدیث ۱۱۳۴۳،۱۷؍۴۴۲(ط:مؤسسۃ الرسالۃ)؛ والإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان،کتاب الذبائح،رقم الحدیث ۵۸۸۹،۱۳؍۲۰۶۔۲۰۷۔شیخ شعیب ارناؤوط نے حدیث کے متعدد طرق اور شواہد کی بنا پر اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۱۱۷؍۴۴۲)۔