کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 68
’’أَنَّ النَّبِيّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم وَأَصْحَابَہُ کَانُوْا یَنْحَرُوْنَ الْبُدْنَۃَ مَعْقُوْلَۃَ الْیُسْرَی،قَائِمَۃً عَلَی مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِہَا۔‘‘[1] ’’بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹ کو اس حالت میں ذبح کرتے تھے،کہ اس کا بایاں پاؤں بندھا ہوتا اور وہ باقی ماندہ تین پاؤں پر کھڑا ہوتا۔‘‘ ۳: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا،کہ اس نے اونٹ کو ذبح کرنے کے لیے بٹھا دیا تھا،تو آپ نے اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور سنت کے مطابق ذبح کرنے کا حکم دیا۔امام بخاری اور امام مسلم نے زیاد بن جبیر سے روایت بیان کی ہے،کہ انہوں نے کہا،کہ:’’میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا،کہ وہ ایک شخص کے پاس تشریف لائے،جس نے اپنی اونٹنی کو ذبح کرنے کے لیے بٹھا دیا تھا،آپ نے فرمایا: ’’اِبْعَثْہَا قِیَامًا مُّقَیَّدَۃً سُنَّۃَ مُحَمَّدٍ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘[2] ’’اسے کھڑا کرکے باندھ لو۔یہی[حضرت]محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔‘‘ حافظ ابن حجر حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں ’’وَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِسْتِحْبَابُ نَحْرِ الْإبِلِ عَلَی الصِفَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ۔‘‘[3] [1] سنن أبي داود،کتاب المناسک،باب کیف تنحر البدن؟رقم الحدیث ۱۷۶۴،۵؍۱۲۸۔۱۲۹۔امام نووی اور شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:شرح النووي ۹؍۶۹؛ وصحیح سنن أبي داود ۱؍۳۳۱)۔ [2] متفق علیہ:صحیح البخاري،کتاب الحج،باب نحر الإبل مقیدۃ،رقم الحدیث ۱۷۱۳،۳؍۵۵۳؛ وصحیح مسلم،کتاب الحج،باب نحر البدن قیاما مقیدۃ،رقم الحدیث ۳۵۸(۱۳۲۰)،۲؍۹۵۶۔الفاظِ حدیث صحیح بخاری کے ہیں۔ [3] فتح الباري ۳؍۵۵۳؛ نیز ملاحظہ ہو:شرح النووي ۹؍۶۹۔