کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 66
’’فِیْہِ دَلِیْلٌ لِاسْتِحْبَابِ قَوْلِ الْمُضَحِّي حَالَ الذِبْحِ مَعَ التَسْمِیَۃِ وَالتَّکْبِیْرِ:اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّيْ۔‘‘[1] ’’یہ[حدیث]اس بات پر دلالت کرتی ہے،کہ قربانی کرنے والے کا ذبح کرتے وقت[بسم اللّٰہ واللّٰہ اکبر]کے ساتھ[اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي[2]]کہنا مستحب ہے۔‘‘ ۲:امام ابوداؤد نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’شَہَدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم الْاَضْحَي فِي الْمُصَلَّی،فَلَمَّا قَضَی خُطْبَتَہُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِہِ،وَأُتِيَ بِکَبْشٍ،فَذَبَحَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم بِیَدِہِ،وَقَالَ: ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ،ہٰذَا عَنِّيْ وَعَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ۔‘‘ [3] ’’میں(عید) الاضحی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ حاضر ہوا،خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد آپ منبر سے اترے۔ایک مینڈھے کو لایا گیا اور آپ نے اسے اپنے دست(مبارک سے) ذبح فرمایا اور کہا: ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ،ہٰذَا عَنِّيْ وَعَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ کے نام سے،اور اللہ سب سے بڑے ہیں،یہ[قربانی]میری طرف سے ہے،اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے،جس نے قربانی نہیں کی۔‘‘ [1] شرح النووي ۱۳؍۱۲۲۔ [2] ترجمہ:اے اللہ!مجھ سے قبول فرمائیے۔ [3] سنن أبی داود،کتاب الضحایا،باب فی الشاۃ یضحي بہا عن جماعۃ،رقم الحدیث ۲۸۰۷،۸؍۳۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبی داود ۲؍۵۴۰)۔