کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 64
الْقِتْلَۃَ،وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الذَّبْحَ،وَلْیُحِدَّ اَحَدُکُمْ شَفْرَتَہٗ،فَلْیُرِحْ ذَبِیْحَتَہٗ۔‘‘[1] ’’میں نے دو باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی۔آپ نے فرمایا:’’یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض ٹھہرایا ہے،لہٰذا جب تم قتل کرو،تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم[کسی جانور کو]ذبح کرو،تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو۔تم میں سے ایک[یعنی ذبح کرنے والا]اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔‘‘ امام نووی نے تحریر کیا ہے:’’اپنے ذبیحہ کا آرام چھری تیز کرنے،تیزی سے چلانے وغیرہ میں ہے اور یہ بھی مستحب ہے،کہ چھری ذبیحہ کے سامنے تیز نہ کی جائے،نہ ہی ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کیا جائے اور نہ ہی جانور کو گھسیٹ کر ذبح کرنے کی جگہ لے جایا جائے۔‘‘[2] رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی ذبح کرنے سے پیشتر چھری کو تیز کرنے کا اہتمام فرمایا۔یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے،کہ جب آپ کے پاس قربانی کے لیے مینڈھا لایا گیا،تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتھر کے ساتھ چھری تیز کرنے کا حکم دیا۔جب وہ چھری تیز کرکے لائیں،تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈھے کو ذبح فرمایا۔[3] (۱۵) بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کرنا مسنون طریقہ یہ ہے،کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت[بسم اللّٰہ واللّٰہ [1] صحیح مسلم،کتاب الصید والذبائح،باب الأمر بإحسان الذبح والقتل،وتحدید الشفرۃ،رقم الحدیث ۵۷۔(۱۹۵۵)،۳؍۱۵۴۸۔ [2] شرح النووي ۱۳؍۱۰۷۔ [3] ملاحظہ ہو:اس کتاب کا ص ۳۶۔