کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 63
کی قربانی دی جائے گی۔مہنگائی کی صورت میں حالات کے مطابق حکم بدل جائے گا۔‘‘ ب:دوسری رائے یہ ہے،کہ حج کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹ میں سات اشخاص اور عید الاضحی کی قربانی کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹ میں دس اشخاص شریک ہوسکتے ہیں۔اس رائے کے قائل علمائے امت کا استدلال یہ ہے،کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹوں میں سات سات اشخاص کی شرکت کا حکم دیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کے مطابق عید الاضحی کے موقع پر ذبح کئے جانے والے اونٹوں کی قربانی میں دس دس اشخاص شریک ہوئے۔دونوں حدیثوں پر عمل ان میں بیان کردہ موقعوں پر کیا جائے گا۔اس رائے کو امام شوکانی نے پسند فرمایا ہے۔علامہ محمد شمس الحق عظیم آبادی اور شیخ محمد عبد الرحمن مبارکپوری کا رجحان بھی اسی رائے کی طرف ہے۔واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔[1] (۱۴) قربانی کو احسن طریقے سے ذبح کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کو عمدہ اور اچھے طریقے سے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔امام مسلم نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’ثِنْتَانِ حَفِظْتُہُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم قَالَ:’’اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ،فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَاَحْسِنُوْا [1] ملاحظہ ہو:نیل الأوطار ۵؍۲۱۱؛ وعون المعبود ۷؍۳۶۱؛ وتحفۃ الأحوذي ۵؍۷۳۔