کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 62
شریک ہوسکتے ہیں۔ ۳: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور معیت میں حج کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹوں میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سات سات افراد شریک ہوئے اور عید الاضحی کی قربانی کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹوں میں دس دس افراد شریک ہوئے۔ اونٹ میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں؟ اس بارے میں علمائے امت کا اختلاف ہے۔ذیل میں دو آراء پیش کی جارہی ہیں: ا:پہلی رائے یہ ہے،کہ حج اور عید الاضحی کے موقع پر ذبح کئے جانے والے اونٹ میں صرف سات افراد شریک ہوسکتے ہیں،البتہ اگر کسی موقع پر اونٹوں کی قیمت میں اضافہ ہوجائے اور ایک اونٹ کی قیمت دس بکریوں کی قیمت کے برابر ہوجائے،تو ایک اونٹ میں دس افراد کی شرکت درست ہوگی۔ان علمائے امت نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث میں اونٹ کی قربانی میں دس اشخاص کی شرکت کا یہی سبب بیان فرمایا ہے۔اس رائے کو امام نووی،حافظ ابن حجر،اور علامہ عینی نے پسند کیا ہے۔[1] حافظ ابن حجر نے اس بارے میں تحریر فرمایا ہے: ’’وَالَّذِيْ یَتَحَرَّرُ فِي ہٰذَا أَنَّ الْأَصْلَ أَنَّ الْبَعِیْرَ بِسَبْعَۃٍ مَا لَمْ یَعْرِضْ عَارِضٌ مِنْ نَفَاسَۃٍ وَنَحْوِہَا،فَیَتَغَیَّرُ الْحُکْمُ بِحَسْبِ ذٰلِکَ۔‘‘[2] ’’اس بارے میں خلاصہ کلام یہ ہے،کہ اونٹوں کی عمدگی وغیرہ کی بنا پر ان کے مہنگے ہونے کا کوئی سبب نہ ہو،تو سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ [1] ملاحظہ ہو:شرح النووي:۱۳؍۲۷؛ وفتح الباري ۹؍۶۲۷؛ وعمدۃ القاري ۲۱؍۱۱۳۔ [2] فتح الباري ۹؍۶۲۷۔