کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 61
یا گائے میں شریک ہوجائیں۔‘‘ ۲: امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’نَحَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَّۃِ الْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔‘‘[1] ’’ہم نے حدیبیہ کے سال[یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر]سات سات آدمیوں کی جانب سے اونٹ اور گائے کو ذبح کیا۔‘‘ ۳: امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم فِي سَفَرٍ،فَحَضَرَ الْأَضْحَی،فَاشْتَرَکْنَا فِي الْبَقَرَۃِ سَبْعَۃٌ،وَفِي الْبَعِیْرِ عَشَرَۃٌ۔‘‘[2] ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے،عید الاضحی آئی،تو ہم گائے[کی قربانی]میں سات اشخاص اور اونٹ[کی قربانی]میں دس اشخاص شریک ہوئے۔‘‘ مذکورہ بالا احادیث شریفہ سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں: ۱: حج اور عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹ اور گائے میں ایک سے زیادہ اشخاص شریک ہوسکتے ہیں۔ ۲: حج اور عید الاضحی کی قربانی کے لیے ذبح کی جانے والی گائے میں سات افراد [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث ۳۵۰۔(۱۳۱۸)،۲؍۹۵۵۔ [2] جامع الترمذي،أبواب الأضاحي،باب الاشتراک فی الأضحیۃ،رقم الحدیث ۱۵۳۷،۵؍۷۲؛ وسنن ابن ماجہ،أبواب الأضاحي،عن کم تجزی البدنۃ والبقرۃ؟رقم الحدیث ۳۱۶۹،۲؍۲۰۵۔الفاظ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن ابن ماجہ ۲؍۲۰۰)۔