کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 60
۶: امام بیہقی نے عبد اللہ بن أبی قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ ان کے والد[حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ]اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔‘‘[1] مذکورہ بالا روایات میں یہ بات واضح ہے،کہ آدمی اور اس کے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری یا مینڈھے کو ذبح کرنا کفایت کر جاتا ہے۔ تنبیہ:ثواب حاصل کرنے کی غرض سے ایک سے زیادہ قربانیاں دی جاسکتی ہیں،بلکہ ایسا کرنا افضل ہے۔ (۱۳) اونٹ اور گائے کی قربانی میں ایک سے زیادہ افراد کی شرکت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرّہ سے حج اور عید الاضحی کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹ اور گائے میں ایک سے زیادہ اشخاص کا شریک ہونا ثابت ہے۔اس بارے میں تین احادیث ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ۱: امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم مُہِلِّیْنَ بِالْحَجِّ،فَاَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم اَنْ نَشْتَرِکَ فِی الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ،کُلُّ سَبْعَۃٍ مِّنَّا فِیْ بَدَنَۃٍ۔‘‘[2] ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے لبیک پکارتے ہوئے روانہ ہوئے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا،کہ ہم سات آدمی ایک اونٹ [1] السنن الکبری،رقم الروایۃ ۱۹۰۵۴،۹؍۴۵۰۔ [2] صحیح مسلم،کتاب الحج،باب الاشتراک فی الہدي،إجزاء البقرۃ والبدنۃ کل منہما عن سبعۃ،رقم الحدیث ۳۵۱۔(۱۳۱۸)،۲؍۹۵۵۔