کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 58
أَہْلِہِ۔‘‘[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔‘‘ ۳: حضراتِ ائمہ مالک،ترمذی اور ابن ماجہ نے عطاء بن یسار سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا،کہ:’’میں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ قربانیاں کیسے کرتے تھے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’کَانَ الرَّجُلُ یُضَحِّي بِالشَّاۃِ عَنْہُ،وَعَنْ أَہْلِ بَیْتِہِ،فَیَأْکُلُوْنَ وَیُطْعِمُوْنَ،حَتّٰی تَبَاہَی النَّاسُ،فَصَارَتْ کَمَا تَرَی۔‘‘[2] ’’آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی دیا کرتا تھا اور اس سے وہ کھاتے بھی تھے اور کھلاتے بھی تھے۔پھر لوگ فخر کرنے لگے اور نوبت جہاں تک پہنچ گئی ہے،وہ تم دیکھ رہے ہو۔‘‘ [1] المستدرک علی الصحیحین،کتاب الأضاحي،۴؍۲۲۹؛ والسنن الکبریٰ،کتاب الضحایا،باب الرجل یضحي عن نفسہ وعن أہل بیتہ،رقم الحدیث ۱۹۰۵۲،۹؍۴۵۰۔امام حاکم نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔(ملاحظہ ہو:المستدرک ۴؍۲۲۹،والتلخیص ۴؍۲۲۹)۔ [2] الموطأ،کتاب الضحایا،الشرکۃ فی الضحایا،وعن کم تُذْبَحُ البقرۃ والبدنۃ؟رقم الروایۃ ۱۰؍۲؍۴۸۶؛ وجامع الترمذي،أبواب الأضاحي،باب ما جاء أن الشَّاۃَ الواحدۃ تجزیء عن أہل البیت،رقم الحدیث ۱۵۴۱،۵؍۷۵؛ وسنن ابن ماجہ،أبواب الأضاحي،من ضحّی بشاۃ عن أہلہ،رقم الحدیث ۳۱۸۵،۲؍۲۰۸۔الفاظِ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔امام ترمذی نے اسے[حسن صحیح]اور شیخ البانی نے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:جامع الترمذي ۵؍۷۶؛ وإرواء الغلیل ۴؍۳۵۵)۔