کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 57
ہے،جس میں ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈھے کو ذبح کرنے کے لیے پچھاڑا اور کہا: ’’بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘[1] ’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ،اے اللہ!محمد،آل محمد،اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرمائیے۔‘‘ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنے آل کی طرف سے ایک ہی مینڈھے کو ذبح فرمایا،بلکہ امت کو بھی اس میں شامل فرما لیا۔امام خطابی نے تحریر کیا ہے: ’’وفی قولہ[تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔]دَلِیْلٌ عَلَی أَنَّ الشَاۃَ الْوَاحِدَۃ تُجْزِیئُ عَن الرَّجُلِ وَأَہْلِہِ،وَإِنْ کَثُرُوْا۔‘‘[2] ’’آپ کا فرمان[تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔]اس بات پر دلالت کرتا ہے،کہ ایک بکری[کی قربانی]آدمی اور اس کے گھر والوں سے کفایت کرتی ہے،اگرچہ ان کی تعداد زیادہ بھی ہو۔‘‘ ۲: امام حاکم اور امام بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یُضَحِّيْ بِالشَّاۃِ الْوَاحِدِۃ ِعَنْ جَمِیْع [1] تخریج حدیث کے لیے ۳۶ ملاحظہ فرمائیے۔ [2] معالم السنن ۲؍۲۲۸۔