کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 56
علامہ عینی نے تحریر کیا ہے: ’’وَفِیْہِ أَنَّ ذِبْحَ النِّسَائِ نِسَائِکَہُنَّ یَجُوْزَ،إِذَا کُنَّ یُحْسِنَّ الذِبْح۔‘‘[1] ’’اور اس میں یہ بات ہے،کہ اگر عورتوں کو ذبح کرنے کا سلیقہ ہو،تو ان کا اپنی قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنا جائز ہے۔‘‘ عورتوں کے جانور ذبح کرنے کے جواز پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے،جسے امام بخاری نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،کہ: ’’أَنَّ امْرَأَۃً ذَبَحَتْ شَاۃً بِحَجَرٍ،فَسُئِلَ النَّبِیُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَنْ ذٰلِکَ،فَاَمَرَ بِأَکْلِہَا۔‘‘[2] ’’بے شک ایک عورت نے پتھر سے ایک بکری کو ذبح کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔‘‘ (۱۲) سب اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری کا کافی ہونا متعدد احادیث شریفہ سے یہ بات ثابت ہے،کہ قربانی کی غرض سے سارے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنا کفایت کرجاتا ہے۔اس بارے میں چھ روایات درج ذیل ہیں: ۱: امام مسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کردہ حدیث گزر چکی [1] عمدۃ القاریء ۲۱؍۱۵۵۔ [2] صحیح البخاري،کتاب الذبائح والصید،باب ذبیحۃ المرأۃ والأَمَۃ،رقم الحدیث ۵۵۰۴،۹؍۶۳۲۔