کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 54
فَأَعَانَہ‘‘۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے پچھاڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی سے فرمایا:’’قربانی[کے ذبح کرنے]میں میری اعانت کرو۔‘‘ اس شخص نے آپ کی اعانت کی۔‘‘ علاوہ ازیں امام بخاری نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کیا ہے: ’’وَأَعَانَ رَجُلُ ابْنَ عُمَرَ رضی اللّٰهُ عنہ فِيْ بَدَنَتِہٖ‘‘۔[2] ’’ایک شخص نے اونٹ ذبح کرنے میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے تعاون کیا۔‘‘ ۳: کسی دوسرے کی طرف قربانی کے جانور کا ذبح کرنا بھی سنت مطہرّہ سے ثابت ہے۔امام بخاری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا: ’’وَضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَنْ نِّسَائِہٖ بِالْبَقَرِ۔‘‘[3] ’’اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔‘‘ امام بخاری نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان لکھا ہے: [بَابُ مَنْ ذَبَحَ ضَحِیَّۃَ غَیْرِہِ][4] [کسی دوسرے شخص کی قربانی ذبح کرنے والے کے متعلق باب] [1] الفتح الرباني فی ترتیب مسند الإمام احمد،أبواب الأضحیۃ،باب ما جاء فی أضاحي رسول اللّٰهِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عن نفسہ،…،رقم الحدیث ۵۶،۱۳؍۶۵۔حافظ ابن حجر نے اس کے راویوں کو[ثقہ]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:فتح الباري ۱۰؍۱۹)۔ [2] صحیح البخاري،کتاب الأضاحي ۱۰؍۱۹۔ [3] المرجع سابق،جزء من رقم الحدیث ۵۵۵۹،۱۰؍۱۹۔ [4] المرجع السابق ۱۰؍۱۹۔