کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 53
ذبح نہیں کیا،وہ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرے۔‘‘ (۱۱) قربانی کا جانور کون ذبح کرے؟ اس بارے میں توفیقِ الٰہی سے چار باتیں پیش کی جارہی ہیں: ۱: سنتِ مطہرّہ سے یہ بات ثابت ہے،کہ قربانی کرنے والا اپنا جانور خود ذبح کرے۔امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ضَحَّی النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ،فَرَأَیْتُہٗ وَاضِعًا قَدَمَہ عَلٰی صِفَاحِہِمَا،یُسَمِّيْ وَیُکَبِّرُ،فَذَبَحَہُمَا بِیَدِہٖ۔‘‘[1] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی دی۔میں نے آپ کو اپنا قدم ان کے پہلوؤں پر رکھے[بسم اللّٰہ واللہ اکبر]پڑھتے دیکھا اور آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا۔‘‘ ۲: قربانی کرتے وقت کسی دوسرے شخص سے تعاون حاصل کرنا بھی سنت مطہرّہ سے ثابت ہے۔امام احمد نے ایک انصاری شخص سے روایت کی ہے: ’’عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم أَنَّہُ أَضْجَعَ أُضْحِیَّتَہُ لِیَذْبَحَہَا،فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم لِلرَّجُلِ:’’أَعِنِّي عَلٰی ضَحِیَّتِیْ‘‘۔ [1] متفق علیہ:صحیح البخاري،کتاب الأضاحي،باب من ذبح الأضاحي بیدہ،رقم الحدیث ۵۵۵۸،۱۰؍۱۸؛ وصحیح مسلم،کتاب الأضاحي،باب استحباب الضحیۃ،وذبحہا مباشرۃ بلا توکیل،…،رقم الحدیث ۱۸۔(۱۹۶۶)،۳؍۱۵۵۷۔الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔